ابنا: بحرین کی نائب وزیر اطلاعات اور اس ملک کی حکومت کی ترجمان "سمیرہ ابراھیم بن رجب" نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے ایک مراسلے میں دعوی کیا ہے کہ گذشتہ برسوں میں بحرین کو غیرملکی حمایتی یافتہ دھشتگردوں کے منصوبوں کا سامنا رہا ہے۔ اس بحرینی عہدیدار نے اپنے اس مراسلے میں کہ جو خلیج فارس کے علاقے میں اقوام متحدہ نمائندہ دفتر کے ڈاریکٹر "نجیب فریجی" کو پیش کیا گیا، 14 فروری اتحاد کی سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دیا اور بحرینی مظاہرین پر حکومت کے خلاف شورش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ یادرہے کہ آل خلفیہ حکومت کے خلاف بحرین کے عوام کے قیام کی سالگرہ یعنی 14 فروری کے دن بحرین کے عوام کے وسیع مظاہروں کو اس ملک کی سیکیورٹی فورسیز کی جانب سے کچلے جانے کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل "بان کی مون" نے بحرین کے عوام کے مظاہروں کو کچلے جانے کے حوالے سے اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بحرین کی حکومت س مطالبہ کیا تھا کہ وہ انسانی حقوق کے حوالے سے اپنے بین الاقوامی قوانین پر عمل کرے۔ یادرہے کہ آل خلیفہ حکومت کے کارندوں نے 14 فروری 2014 کے دن بحرین کے عوام کی جانب سے وسیع احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کے لئے غیر روائتی طریقوں منجملہ زہریلی گیس کا استعمال بھی کیا اور مظاہرین پر فائرنگ کی اور ان پر آنسو گیس کی گولے برسائے، جس کے نتیجے میں درجنوں بحرینی عوام زخمی ہوئے جن میں سے کئ ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
.......
/169